بلاگ · کہانیاں
لاہور کے ایک گھرانے کی مختصر تصویری کہانیاں۔ ہر کہانی سیفٹی کورس کے ایک سبق کے گرد بنی ہے اور پڑھنے میں تقریباً پانچ منٹ لگتے ہیں۔
حصہ 1: شوگر کی کمی
تین بجے، کھانا ابھی باقی
رشید صاحب کے ہاتھ کاؤنٹر پر کانپ رہے ہیں۔ ان کی بھتیجی ثنا کے پاس وجہ سمجھنے کے لیے بس ایک منٹ ہے۔
کہانی پڑھیںحصہ 2: بیماری کے دن
کھانا نہیں تو دوا بھی نہیں؟
عمران کا پیٹ خراب ہے اور وہ سارا دن کچھ نہیں کھا سکے۔ ان کا ارادہ ہے کہ ساری گولیاں چھوڑ دیں۔ صائمہ کو یقین نہیں۔
کہانی پڑھیںحصہ 2: بیماری کے دن
آدھی رات، 310
ثنا کو ٹائپ 1 ذیابیطس ہے اور پیٹ کی خرابی بھی۔ آدھی رات ہے، میٹر 310 دکھا رہا ہے، اور وہ سب سے عام غلطی کرنے والی ہے۔
کہانی پڑھیںحصہ 3: کاربوہائیڈریٹ گننا
پلیٹ میں اصل میں کیا ہے
اتوار کا دوپہر کا کھانا، اور رشید صاحب کا ایک نظریہ ہے: شوگر صرف روٹی سے بڑھتی ہے۔ ان کے گھر والے ایک ایک کٹوری کر کے انہیں غلط ثابت کرنے والے ہیں۔
کہانی پڑھیںرمضان اور ذیابیطس
افطار میں دو گھنٹے
بشیر صاحب ہمیشہ کی طرح پورے رمضان کے روزے رکھنا چاہتے ہیں۔ نویں روزے کی سہ پہر چار بجے ان کا میٹر کچھ اور کہتا ہے۔
کہانی پڑھیںپاؤں کی دیکھ بھال
چپل میں کنکر
صحن کے فرش پر خون کے نشان ہیں اور کریم کو کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ اصل مسئلہ یہی ہے۔
کہانی پڑھیںگرمی میں انسولین
ڈگی میں انسولین
لاہور کا جون، اور حمزہ کا انسولین پین ساری دوپہر موٹر سائیکل کی ڈگی میں رہا۔ کیا وہ اب بھی ٹھیک ہے؟ اندازہ کوئی نہیں لگانا چاہتا۔
کہانی پڑھیںحصہ 3: کاربوہائیڈریٹ گننا
عائشہ اور سالگرہ کا کیک
کلاس میں بلال کی سالگرہ کا کیک آیا ہے، اور ٹائپ 1 ذیابیطس والی عائشہ کو یقین ہے کہ یہ اس کے لیے نہیں۔ اس کی ٹیچر کچھ اور سوچتی ہیں۔
کہانی پڑھیں

















