



پاؤں کی دیکھ بھال
صحن کے فرش پر خون کے نشان ہیں اور کریم کو کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ اصل مسئلہ یہی ہے۔


















تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
جمعہ کی صبح۔ کریم ہوائی چپل پہنے صحن سے گزرتے ہیں، جیسے تیس برس سے روز گزرتے ہیں۔
“ابو، رکیں! فرش پر خون کے نشان چھوڑ رہے ہیں!”
“میں؟ مجھے تو کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔”
تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
پاؤں کے السر کے بڑے خطرے یہ ہیں: حفاظتی احساس کا ختم ہو جانا (سن پن)، پاؤں تک خون کی ناقص گردش (پیریفرل آرٹری ڈیزیز) اور پاؤں کی بناوٹ میں خرابی۔ جو پاؤں درد اور دباؤ محسوس نہ کرے وہ آپ کے علم میں آئے بغیر زخمی ہو سکتا ہے۔
تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
ان کے تلوے پر ایک چھوٹا سا کٹ ہے، اور ایک نوکیلا کنکر ابھی تک چپل میں پھنسا ہے۔
اس کٹ کا کیا کرنا چاہیے؟
کسی جواب پر ٹیپ کریں اور دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
Aپاؤں گرم پانی میں بھگو کر رکھیں اور خود ٹھیک ہونے دیں۔
اس کے بجائے کیا ہوتا ہے
گائیڈ لائن کہتی ہے کہ پاؤں روزانہ دھوئیں مگر ٹب میں نہ بھگوئیں، اور انگلیوں کے درمیان احتیاط سے خشک کریں۔
Bآج ہی کسی تربیت یافتہ طبی عملے سے رابطہ کریں۔
✓ درست قدم
فوراً کسی تربیت یافتہ طبی عملے سے رابطہ کریں، ہو سکے تو اسی دن۔ اگلی ملاقات کا انتظار نہ کریں۔
Cاس پر کارن پلاسٹر لگا دیں اور کام جاری رکھیں۔
اس کے بجائے کیا ہوتا ہے
کیمیکل والی دوا یا کارن پلاسٹر سے نہیں؛ گائیڈ لائن گھریلو دیکھ بھال میں ان سے بچنا شامل کرتی ہے۔ سخت جلد کا علاج تربیت یافتہ طبی عملے سے کروانا بہتر ہے۔
تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
“آپ کے پاؤں کا کچھ احساس ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے کنکر سے درد نہیں ہوا۔”
اپنے پاؤں کا معائنہ کم از کم سال میں ایک بار کروائیں۔ اگر پاؤں میں سن پن ہے یا خون کی گردش ناقص ہے تو ہر 6–12 ماہ بعد یا اس سے زیادہ بار۔
تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
“تو روز کیا کرنا ہے؟”
- دونوں پاؤں دیکھیں، تلووں اور انگلیوں کے درمیان سمیت۔ تلوے خود نہ دیکھ سکیں تو آئینہ استعمال کریں یا کسی سے دیکھنے کو کہیں۔
- پاؤں روزانہ دھوئیں مگر ٹب میں بھگوئیں نہیں، اور انگلیوں کے درمیان خاص طور پر اچھی طرح خشک کریں۔ وضو کرتے ہوں تو دھونا ہو گیا؛ احتیاط خشک کرنے میں چاہیے۔
- خشک جلد پر موئسچرائزر لگائیں۔
- ناخن سیدھے کاٹیں۔
- سخت جلد یا گھٹے پر کیمیکل والی دوا یا کارن پلاسٹر نہ لگائیں۔ اس کا علاج تربیت یافتہ طبی عملے سے کروائیں۔
- تنگ جرابوں سے بچیں، اور پاؤں کو زیادہ گرمی یا سردی میں نہ رکھیں۔
تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
“اور میری چپل؟”
اگر آپ کو خطرہ ہے تو گائیڈ لائن کے مطابق گھر کے اندر یا باہر ننگے پاؤں، جرابوں میں بغیر جوتے، یا پتلے تلے کی چپل میں نہ چلیں۔ ایسی دوسری کھلی چپل سے بھی بچنے کو کہا گیا ہے جس میں جلد نوکیلی چیز کے سامنے کھلی رہے؛ ہوائی چپل اس کی مثال ہے۔
- ایسے جوتے چنیں جو آپ کے پاؤں کی بناوٹ کے مطابق ہوں، لمبائی، چوڑائی اور گہرائی کافی ہو۔ ناپ کھڑے ہو کر، بہتر ہے دن کے آخر میں چیک کروائیں، کیونکہ سن پاؤں تنگ جوتے کا اندازہ نہیں کر سکتے۔
- جوتا پہننے سے پہلے ہر بار اندر دیکھیں کہ کنکر یا کوئی اور چیز تو نہیں۔
تصویر میں کسی پر ٹیپ کریں اور سنیں وہ کیا کہتے ہیں۔
“تیس سال ہوائی چپل…”
“…اور آج سے گھر میں بھی ٹھیک جوتے۔ ہر صبح میں اندر دیکھ لوں گا۔”
کم یا درمیانے خطرے والوں (سن پن یا خون کی ناقص گردش، مگر پہلے السر، عضو کٹنے یا گردوں کے ناکارہ ہونے کے بغیر) کے لیے گائیڈ لائن کہتی ہے کہ روزانہ 1000 قدم اضافی چلنا پاؤں کے لیے غالباً محفوظ ہے۔
یاد رکھنے کی باتیں
- اپنے پاؤں کا معائنہ کم از کم سال میں ایک بار کروائیں۔ اگر پاؤں میں سن پن ہے یا خون کی گردش ناقص ہے تو ہر 6–12 ماہ بعد یا اس سے زیادہ بار۔
- اگر آپ کو خطرہ ہے تو گھر میں یا باہر ننگے پاؤں، جرابوں میں بغیر جوتے، یا پتلے تلے کی چپل میں نہ چلیں۔
- روزانہ اپنے پاؤں دیکھیں۔ انہیں دھوئیں مگر بھگوئیں نہیں، انگلیوں کے درمیان اچھی طرح خشک کریں، خشک جلد پر موئسچرائزر لگائیں اور ناخن سیدھے کاٹیں۔
- ٹھیک ناپ کے جوتے پہنیں، اور پہننے سے پہلے اندر دیکھ لیں کہ کوئی نوکیلی چیز تو نہیں۔
- چھالا، کٹ، دراڑ، یا سخت جلد کے نیچے خون ہو تو فوراً کسی تربیت یافتہ طبی عملے سے رابطہ کریں۔
